19 اکتوبر 2012 - 20:30

شام کے امور ميں اقوام متحدہ اور عرب ليگ کے نمائندے اخضر ابراہيمي، شام کے بحران کےبارے ميں بھرپور علاقائي صلاح و مشورے کے بعد جمعے کے روز دمشق پہنچے ہيں تاکہ اس ملک ميں جاري لڑائيوں کے خاتمے کے لئے شامي حکام اور ديگر اہم شخصيات سے تبادلہ خيال کيا جائے- انہوں نے اپنے دورہ شام سے قبل ايران، سعودي عرب، لبنان، عراق اور ترکي کا دورہ کيا تھا-

ابنا: شام کے امور ميں اقوام متحدہ کےسابق نمائندے کوفي عنان کے استعفے کے بعد اخضرابراہيمي نے چند ماہ قبل اقوام متحدہ کے سيکريٹري جنرل کے خصوصي ايلچي کي حیثيت سے بحران  شام کے حل کے لئے باقائدہ کوششيں شروع کي ہيں-اخضر ابراہيمي کا کہنا ہے کہ وہ عيد الضحي کے موقع پر جنگ بندي کے لئے شام ميں متحارب فريقوں سے بات چيت کرنے کا ارادہ رکھتے ہيں-دوسري جانب شام کے قومي آشتي کے وزير علي حيدر نے کہا ہے کہ انکي حکومت ملک ميں جنگ اور خون خرابے کا خاتمہ چاہتي ہے اور عيد الضحي کے موقع پر ہونے والي جنگ بندي اس جانب پہلا قدم ہوگي-انہوں نے کہا کہ شام کي حکومت عيدالضحي کے موقع پر جنگ بندي کے لئے پوري طرح تيار ہے اور انہيں اميد ہے کہ باغي گروپ بھي اس تجويز کا خير مقدم کريں گے-شام کے وزير برائے قومي آشتي نےجنگ کے خاتمے اور  حکومت شام اور مسلح گروہوں کے درميان کسي امن معاہدے کے امکان کے بارے ميں کہا کہ مسلح گروپ اپنے فيصلوں ميں خودمختار نہيں ہيں جبکہ ان کي حمايت کرنے والے ممالک بھي شام ميں جنگ کا خاتمہ نہيں چاہتے-علي حيدر نے کہا کہ قطر  اور سعودي عرب جو شام ميں امريکہ کي جانب سے ڈکٹيٹ کي جانے والي پاليسيوں پر عملدرآمد کے ٹھيکدار بنے ہوئے ہيں شام کي حکومت اور  عوام  کے خلاف لڑنے والے مسلح گروہوں کي مسلسل مالي اور اسلحہ جاتي حمايت کر رہے ہيں-درايں اثنا ايران کي وزارت خارجہ ميں عرب اور افريقي امور کے ڈائريکٹر امير عبداللھيان نے شام ميں فوري جنگ بندي کي ضرورت پر زور ديتے ہوئے اسے اس ملک کے عوام کي مشکلات کم کرنے کي جانب پہلا قدم قرار ديا ہے-شام ميں قيام امن کے لئے اقوام متحدہ کے خصوصي نمائندے اخضر ابراہيمي اور ايران سميت خطے کے بعض ملکوں کي جانب سے کي جانے والي سفارتي کوششيں شروع ہوتے سعودي عرب کي جانب سے ان کوششوں کو ناکام بنانے کي کوششوں کي خبريں موصول ہورہي ہيں-اس بات نے خطے کے ملکوں کے خلاف سعودي عرب کے اس فتنہ انگيز کردار  کو اور بھي اجاگر کرديا جاہے جو وہ بعض سازشي مغربي ملکوں کے ساتھ ملکر  اس خطے ميں ادار کر رہا ہے-سعودي عرب کے اخبارات اور جرائد نے عيد الضحي کے موقع پر شام ميں جنگ بندي کے لئے اخصر ابراہيمي کي سفارتي کوششوں پر اپني سخت ناراضگي کا اظہار کيا ہے-آل سعود کے اخبارات و جرائد نے اخضر ابراہمي کے  منصوبے پر اپني ناراضگي کو چھپانے کے لئے يہ بہانہ گھڑا ہے کہ جنگ بندي سے شام کي حکومت کو فائدہ پنچے گا اور مکمن ہے شام کي حکومت جنگ بندي سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مسلح افراد پر شب خون مار کے انہيں ختم کردے-آل سعود خاندان کے ذرائع ابلاغ نے يہ مذموم دعوي ايسي حالت ميں کيا ہے جب شام ميں عرب  ليگ کے سابق مبصر مصطفي الدابي کي گواہي کے مطابق اس سے  قبل ہونے والے امن معاہدے کي خلاف ورزي حکومت شام  نے نہيں بلکہ خود مسلح گروہوں نے کي تھي- سعودي عرب کي شاہي حکومت اس بات کي پوري کوشش کر رہي ہے کہ شام ميں حکومت اور مخالفين کے درميان عيد الضحي کے موقع پر جنگ بندي نہ ہونے پائے-

.....

/169